بنگلورو،8؍اکتوبر(ایس او نیوز) جمہوری نظام حکومت میں اخلاقی اقدار کی گراوٹ کی وجہ سے کرپشن اور بدعنوانی اپنی جڑی مضبوط کرتی جارہی ہیں، سماج ومعاشر ہ میں اقدار حیات اور انسانیت کاگراف گرتا جارہا ہے ،ان خیالات کااظہار وظیفہ یاب لوک آیکتہ جسٹس سنتوش ہیگڑے نے کیا ۔ شہر کے رویندرا کلاکشیترا میں ریاستی تعمیری مزدور اورقلی مزدوروں کے فیڈریشن کی جانب سے منعقدہ مزدور وتہنیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سنتوش ہیگڑے نے کہا کہ ہندوستان مختلف زبانوں اور تہذیبوں کا سنگم ہے ،لیکن آزادی ملنے کے بعد سے آج تک کئی اقدار حیات اب بھی سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں، ہماری عمر والوں کی جانب سے معاشرہ تعمیر ہوا ہے ۔ کہنا غلط نہیں ہوگا ۔لیکن مستقبل میں نوجوان نسلوں کی وجہ سے سماج و معاشرہ میں تبدیلی لانا ناگزیر ہے ، نوجوان نسل کی اصلاح و تربیت کے ذریعہ اقدار حیات اور اخلاقیات میں سدھار لانا ہوگا ۔ پروگرام کا افتتاح کرنے کے بعد کے پی سی سی کے کار گزار صدر ایشور کھنڈرے نے کہا کہ تعمیری مزدوروں کی فلاح وبہبودی کیلئے دسیوں اسکیمیں حکومت کی جانب سے جاری کی گئی ہیں، ان اسکیموں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کفیل زندگی گزاریں اور اقتصادی حالت مضبوط کرتے ہوئے آگے بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہر کوئی یہ کہتا ہے کہ موجودہ نظام درست نہیں ہے ، اس کیلئے پارٹی ادارہ یا تنظیمیں ذمہ دار نہیں ہیں، تمام کی نادانیوں سے اس قسم کی گمبھیر غلطیاں ہورہی ہیں۔کوئی بھی کام یا کارنامہ انجام دیتے وقت طنز وطعن کے تیر ضرور لگتے ہیں ۔ لیکن ہم میں اس پر خطر راہ کو عبور کرنے کا حوصلہ ہونا چاہئے ۔ کسی کی تنقید وطنز پر ہم دلبرداشتہ نہ ہوں، مسلسل کام کرتے رہیں ۔ کیونکہ کامیابی سامنے کھڑی استقبال کررہی ہے۔وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے کھنڈرے نے کہا کہ نریندر مودی نے 2014ء لوک سبھا انتخابات کے موقع پر پرو پیگنڈہ کے ذریعہ جھوٹا بھروسہ دلایا اور بیرونِ ممالک میں موجود کالا دھن ہندوستان لانے کا وعدہ کیا ۔اب تک ایک پیسہ بھی نہیں آیا ۔ بدلہ میں کئی صنعتکار ہزاروں کروڑ روپئے لے کر ملک سے فرار ہوگئے اور وزیر اعظم چوکیدار ی کرتے رہ گئے۔ اس کے علاوہ ملک کا سب سے بڑا گھوٹالہ بھی مودی کے دورِ اقتدار میں پیش آیا۔ رافیل جنگی طیاروں کی خریداری معاملہ میں کروڑوں کا گھوٹالہ ہوا ہے ۔ اس موقع پر مزدوروں نے یادداشت پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مزدوروں کے محنتانہ میں اضافہ کیا جائے ، یکساں کام کیلئے یکساں اجرت دی جائے ۔ تنخواہ ہاتھ میں دینے کے بجائے راست طور پر بینک کھاتہ میں جمع کی جائے سمیت دیگر مطالبات مزدوروں نے کئے اور حکومت سے پورے کئے جانے کی امید ظاہر کی۔